ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / مذہبی آزادی کی سمت میں بڑی رکاوٹ اورمذہبی اقلیتوں پر حملے تیز، ہندوستان کو خصوصی تشویش والے ممالک میں شامل کرنے کی سفارش

مذہبی آزادی کی سمت میں بڑی رکاوٹ اورمذہبی اقلیتوں پر حملے تیز، ہندوستان کو خصوصی تشویش والے ممالک میں شامل کرنے کی سفارش

Thu, 30 Apr 2020 12:37:00    S.O. News Service

نئی دہلی،30؍ اپریل (ایس او نیوز؍ایجنسی) عالمی سطح پر آزادی مذہب پر نظر رکھنے والی امریکی کمیشن یوایس سی آئی آر ایف نے منگل کو محکمہ خارجہ سے ہندوستان سمیت 14 ممالک کو خصوصی تشویش والے ممالک (سی پی سی) کے طورپر درج کرنے کو کہا اورالزام لگایا کہ ان ممالک میں مذہبی اقلیتوں پرحملے بڑھتے جارہے ہیں -

امریکی کمیشن یوایس سی آئی آر ایف نے منگل کو جاری اپنی سالانہ رپورٹ میں کہا کہ اس میں 9/ ایسے ملک ہیں جنہیں دسمبر2019میں سی پی سی کے طورپر درج کیا گیا تھا، وہ میانمار،چین، ایریٹریا، ایران، جنوبی کوریا، پاکستان، سعودی عرب، تاجکستان اورترکمانستان ہیں - ان کے علاوہ اس میں 5دوسرے ملک ہندوستان، نائیجیریا،روس، سیریا اور ویت نام ہیں -بین الاقوامی مذہبی آزادی پر اپنی سالانہ رپورٹ کے2020 کے ایڈیشن میں امریکی کمیشن یو ایس سی آئی آر ایف نے الزام لگایاکہ 2019 میں ہندوستان میں مذہبی آزادی کی سمت میں بڑی گراوٹ آئی اورمذہبی اقلیتوں پر حملے تیز ہوگئے-

امریکی کمیشن کی مذہبی آزادی پر 2020 کی سالانہ رپورٹ میں انکشاف کرتے ہوئے دورکنی اکائی کے صدر نے کہا کہ کل ملاکر مذہبی آزادی پر پوری دنیا میں اصلاح ہوئی تھی، لیکن پچھلے سال ہندوستان میں تیزی سے گراوٹ دیکھی گئی -امریکی کمیشن یوایس سی آئی آر ایف کے صدر ٹونی پرکنس نے کہا کہ حالانکہ دوسرے ممالک کی صورتحال میں گراوٹ دیکھی گئی ہے -بالخصوص ہندوستان -لیکن کل ملاکر ہم نے بین الاقوامی مذہبی آزادی میں اصلاح دیکھی ہے -سال 2004 کے بعد سے پہلی بار ہے کہ امریکی کمیشن یو ایس سی آئی آر ایف نے ہندوستان کو خصوصی زمرے میں شامل کرنے کی تجویز رکھی ہے -

کمیشن کی سالانہ رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا کہ حکومت ہند نے پورے ہندوستان میں مذہبی آزادی کی خلاف ورزی کرتے ہوئے بالخصوص مسلمانوں کے لئے قومی سطح کی پالیسیوں کو بنانے کے لئے اپنی پارلیمانی اکثریت کا استعمال کیا - سالانہ رپورٹ میں دسمبر 2019 میں شہریت (ترمیم) ایکٹ کا تذکرہ کیا گیا ہے جو افغانستان، بنگلہ دیش اورپاکستان سے آنے والے غیرمسلم مہاجرین کو فاسٹ ٹریک شہریت فراہم کرنے والا ہے - اس میں کہا گیا کہ سرکاری حکام کے بیانات کے مطابق یہ قانون فہرست میں شامل غیر مسلم مذہبی کمیونٹی کے لئے ملک گیر این آرسی سے تحفظ فراہم کرنے کے لئے ہے جس کے بعد لوگوں کو حراست میں لیا جائے گا واپس بھیجا جائے گا اور ممکنہ طورپر انہیں اسٹیٹ لیس بنادے گا-اس کے علاوہ کمیشن نے ذکر کیا کہ اقلیتوں کے خلاف تشدد میں سرکار حامی عناصروں نے بھی اہم رول نبھایا- مرکزی اور مختلف ریاستی حکومتوں نے بھی مذہبی اقلیتوں کے خلاف استحصال اور تشدد کی ملک گیر تحریکات کو جاری رکھنے کی اجازت دی اوران کے خلاف تشدد کرنے اورنفرت پھیلانے کی چھوٹ دی-

ان واقعات کی بنیاد پر اس رپورٹ میں امریکی کمیشن یو ایس سی آئی آر ایف نے ہندوستان کو خصوصی تشویش والے (سی پی سی) میں درج کرنے کو کہا ہے -بین الاقوامی مذہبی آزادی ایکٹ 1998 کے مطابق ان سرکاروں کو خصوصی تشویش والے ممالک کے طورپر درج کیا جاتا ہے جو مذہبی آزادی کی منظم،مسلسل اورخطرناک خلاف ورزیوں میں یا تو شامل رہے ہیں یا جنہوں نے انہیں برداشت کیا ہے -ایکٹ کے مطابق، کمیشن کی سفارشات پر تب دھیان دیا جائے گا، جب امریکی وزیر خارجہ یکم مئی کو بین الاقوامی مذہبی آزادی پر ایک سالانہ رپورٹ کانگریس کو ارسال کریں گے -


Share: